بدھ , 21 فروری 2024

غزہ جنگ میں صیہونی حکومت کو بھاری اقتصادی نقصانات کا سامنا

غزہ کے خلاف صیہونی حکومت کی جنگ، تقریبا پچاس روز کے بعد عارضی جنگ بندی پر منتج ہوئی، تاہم اس جنگ کے نتیجے میں صیہونی حکومت، بھاری معاشی نقصانات کی متحمل ہوئی ہے

صیہونی حکومت ممکن ہے غزہ میں نسل کشی کو اپنے لئے کامیابی قرار دے لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ اس غاصب حکومت کو جنگ کے میدان میں کوئی کامیابی نہیں ملی ہے-نہ صرف یہ کہ اسے فوجی اہداف حاصل نہیں ہوئے ہیں بلکہ بھاری جانی اور مالی نقصانات بھی اٹھانا پڑے ہیں-

معاشی لحاظ سے غاصب صیہونی حکومت کی وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ جنگ کی یومیہ لاگت تقریباً دوسو ستر ملین ڈالر ہے، جبکہ وزارت جنگ کا اعلان کردہ سالانہ بجٹ تقریباً چوبیس ارب ڈالر ہے۔ دوسرے الفاظ میں، تقریباً سولہ ارب ڈالر، یعنی غاصب صیہونی حکومت کے سالانہ فوجی بجٹ کے تقریباً ستر فیصد کے برابر، پچاس دنوں میں خرچ ہوگیا۔

یہ ایسی حالت ميں ہے کہ دوسری رپورٹوں میں غزہ جنگ کے اخراجات، بہت زیادہ اعلان کئے گئے ہيں ۔ صیہونی حکومت کے ٹی وی چینل بارہ نے ایک رپورٹ میں اس حکومت کی وزارت خزانہ کے سینئر حکام کی، سیکورٹی کابینہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کی خبر دی ہے کہ جو تین گھنٹے تک جاری رہی اور جس میں غزہ کے خلاف جنگ کے اخراجات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس میٹنگ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، جنگ کے ہر دن صیہونی حکومت کو تقریباً ایک ارب شیکل کا خرچہ آیا ہے، اور اس میں جنگ کے براہ راست اخراجات بشمول فوجیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی شامل ہے، اس طرح سے کہ زیر تربیت ہر فوجی کو یومیہ ایک ہزار شیکل دیئے جاتے ہيں، اس کے علاوہ جنگی طیاروں کی پروازیں اور ان کے ایندھن کے اخراجات اور خوراک اور فوجی ساز و سامان کی فراہمی، اس کے دیگر اخراجات میں شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ جنگ، اسرائیلی بجٹ میں خسارے کا سبب بنی ہے۔

فائننشل ٹائمز نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل کا بجٹ خسارہ اگلے سال یعنی دوہزار چوبیس میں تین گنا بڑھ جائے گا اور یہ اپنی مجموعی گھریلو پیداوار جی ڈی پی کے تقریبا پانچ سے آٹھ فیصد تک پہنچ جائے گا۔

صیہونی حکومت کے مرکزی بینک نے بھی اعلان کیا ہے کہ افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے اس حکومت کی معیشت میں ہونے والے اضافی اخراجات دو اعشاریہ تین ارب شیکل فی ہفتہ تک پہنچ گئے ہیں۔

صیہونی حکومت کے مرکزی بینک نے مزید کہا ہے کہ یہ اخراجات مقبوضہ سرزمین کے مختلف علاقوں میں بہت سے اسکولوں کے بند ہونے اور غزہ اور لبنان کی سرحد کے قریبی علاقوں سے تقریباً ایک لاکھ چوالیس ہزار افرادی قوت کے بے گھر ہونے اور ساتھ ہی فوجی خدمات کے لئے ریزرو فوجیوں کو کال دینے کی وجہ سےہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد غاصب صیہونی حکومت نے اپنے تین لاکھ ساٹھ ہزار ریزرو فوجیوں کو بھی طلب کرلیا ہے جو غزہ کے خلاف ماضی کی جنگوں کی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد ہے اور اس کی وجہ سے بہت سے کارکنان اور ملازمین اپنے کام کی جگہیں چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

پچاس روزہ جنگ کے نتیجے میں صیہونی حکومت کی اقتصادی مشکلات میں ایسے میں اضافہ ہوا ہے کہ اس جنگ سے پہلے ہی، عوام بڑے پیمانے پر حکومت اور اس کی معاشی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھےبشکریہ سحر نیوز

 

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

مریم نواز ہی وزیراعلیٰ پنجاب کیوں بنیں گی؟

(نسیم حیدر) مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج …