بدھ , 21 فروری 2024

خطے میں امریکی قبضے کے خلاف مزاحمت ایک قانونی حق ہے، شامی رکن پارلیمنٹ

دمشق:شام کی پارلیمنٹ کی ایک رکن نے امریکہ پر عراق اور شام میں صیہونی حکومت کے مفادات کے تحفظ کا الزام لگاتے ہوئے خطے میں امریکی تسلط کے خلاف مزاحمت کو قانونی حق قرار دیا۔شامی پارلیمنٹ کی رکن جویدیہ میخائل ثلجہ نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عراق اور شام میں صیہونی حکومت کے مفادات کو پورا کرنے اور ملک کے عوام پر تلخ حقائق مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

شامی پارلیمنٹ کی اس رکن نے مزید کہا کہ امریکہ شام پر قبضہ کر کے اس کی قومی دولت کو لوٹ رہا ہے اور تمام دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتے ہوئے اپنی سرپرست صیہونی حکومت کی حمایت اور مدد کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ شام کے علاقوں پر امریکہ کے پے درپے حملے واشنگٹن کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کے مفادات کے تحفظ اور علاقے میں امریکہ کے تسلط کو جاری رکھنے کے لئے صیہونی حکومت کی خدمت کے مقصد سے کئے جاتے ہیں۔

انہوں نے بلنکن کے اس گستاخانہ دعوے "شام اور عراق پر امریکی حملے اپنے دفاع میں کیے گئے ہیں” پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ (امریکی) ہماری سرزمین پر قابض ہیں نہ ہم، لہذا امریکی قبضے کے خلاف مزاحمت ہمارا قانونی حق ہے۔

ثلجے نے واضح کیا کہ جب امریکہ کہیں ہار جاتا ہے تو وہ دوسری جگہوں پر حملے کرکے اپنے نقصان اور شکست کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔

آخر میں شامی پارلیمنٹ کی اس رکن نے تاکید کی کہ شام اور عراق کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مناسب وقت پر امریکہ کے جارحانہ حملوں کا اپنے مفادات کے مطابق مناسب دفاعی جواب دیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

عمران خان نے تحریک انصاف کے کسی بڑے سیاسی رہنما کے بجائے ایک وکیل کو نگراں چیئرمین کیوں نامزد کیا؟

(ثنا ڈار) ’میں عمران کا نمائندہ، نامزد اور جانشین کے طور پر اس وقت تک …