جمعہ , 23 فروری 2024

غزہ کا مستقبل، تاریخ کا سبق کیا ہے؟

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

دنیا آزادی پسندوں کی قدر کرتی ہے، وہ قومیں جو اپنی جنگ خود لڑتی ہیں، ایک وقت آتا ہے کہ استعماری قومیں بھی ان زمین زادوں کی قدر کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، جن کے خلاف وہ جنگ لڑنے گئی ہوتی ہیں۔ آج جلیانوالہ باغ کے شہداء برطانوی نصاب میں ہیرو اور آزادی کے متوالے ہیں، جنہوں نے اپنی مادر وطن کے لیے جان قربان کر دی اور جنرل ڈائر اور دیگر برطانویوں کا کردار ظالمانہ ہے۔ دنیا بھر کی اقوام ان افراد سے نفرت کرتی ہیں، جنہوں نے اپنی قوم سے غداری کی ہوتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ وہ استعماری قوتیں بھی ان سے نفرت کرتی ہیں، جن کے لیے انہوں نے یہ غداری کی ہوتی ہے۔ آج امریکی اور برطانوی سامراجوں کے لیے جاسوسی کرنے والوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ ان کی آل و اولاد یہ بتا نہیں سکتی کہ ہمارے آباء و اجداد نے ان استعماروں کی یہ خدمت کی ہے۔ اگر کہیں کسی کو کچھ ملا تو یہ نقد مالی مفادات یا عہدے کی شکل میں قوم فروشی کا انعام تھا، مگر اس کام کرنے والے کو قابل عزت نہیں سمجھا گیا۔

قارئین کرام نہ تو آزادی کی جنگ نئی ہے اور نہ ہی دنیا میں استعمار پہلی بار قابض ہوا ہے۔ یہ سب کچھ ہوتا آیا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔ فرق یہ ہے کہ اب پورا بین الاقوامی استعمار ایک قوم کے خلاف جمع ہوگیا ہے۔ پچھلی صدی کی ابتدائی تین دہائیاں لیبیا کے صحراوں میں جنگ کی دہائیاں تھیں، یہ وہ وقت تھا، جب لیبیا پر اٹلی کا قبضہ ہوچکا تھا اور اس نے پوری قوت سے پورے لیبیا کو جکڑ لیا تھا۔ ایسے میں کچھ سرفروش اٹھے، جنہیں اس وقت بہت سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ امن کو راستہ دینا چاہیئے اور غلامی پر راضی ہو کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جانا چاہیئے، مگر وہ لڑے اور آخری سانس تک لڑے۔ صحرا کے شیر کے نام نے جانا جانے والے بہادر سپورت عمر مختار اس جنگ کی ستر سال کی عمر میں قیادت کر رہے تھے۔ جب لڑتے لڑتے اسے میدان جنگ سے گرفتار کرکے اٹالین جنرل کے سامنے پیش کیا تو ان کے درمیان بڑا زبردست مکالمہ ہوا۔ یہ مکالمہ آج کی غزہ جنگ اور فلسطین کے مستقبل کو سمجھنے میں بڑا مددگار ہے۔

جنرل نے کہا، تم کیا سمجھتے تھے کہ ہم سے جیت سکتے ہو؟ عمر مختار نے کہا، ہم لڑے، یہی کافی ہے۔ جنرل برسا اپنے ملک کی بربادی کا نہیں سوچا؟ مختار نے کہا، تم ہی تو میرے ملک کی بربادی ہو۔ اس سے کمرے میں خاموشی چھا گئی اور جنرل نے اپنی میز سے ایک سکہ اٹھا کر کہا کہ اس سکے کی تاریخ دیکھو، یہ شہنشاہ سیزر کے زمانے میں لیبیا میں تیار کیا گیا ہے؟ مختار نے بڑی بے اعتنائی سے جواب دیا، یہاں یونانی، مصری اور دیگر اقوام کے سکے بھی زیر زمین ملیں گے۔ ہماری مٹی میں دبے ہوئے اور ہاں تمہارا سکہ ہے، تمہاری ہی حکومت ہے، اس میں اس سے کچھ خریدنے کی کوشش مت کرنا، یہ بے وقعت ہوچکا ہے۔ جنرل نے ذرا سوچا اور بولا، تم اپنے لوگوں سے کہو ہتھیار ڈال دیں؟ مختار نے کہا، ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ہم جیتیں گے یا مریں گے، تمہیں ہماری اگلی نسلوں سے لڑنا ہوگا۔

غزہ اور فلسطین کی جنگ آزادی اب اسی مقام پر پہنچ چکی ہے، اس میں موت اور آزادی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ چار دن بعد جب جنگ بندی کا وقت ختم ہوگا تو کیا ہوگا؟ یہ لوگ بہت سادہ ہیں، اسرائیل اپنی ہزیمت ذرا کم کرکے دوبارہ حملہ آور ہو جائے گا۔ پھر خون بہے گا اور پھر آسمان سے اہل غزہ پر آگ برسے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ عرب ممالک کی ماضی کی جنگوں کی طرح تیار کیک نہیں ہے بلکہ کانٹوں سے سجا میدان ہے، جس پر قابض افواج کو چلنا ہوگا۔ جگہ جگہ بارود بکھرا ہے، مسلسل اسرائیلی تباہی ان کی منتظر ہے۔ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ غزہ میں پندرہ سال سے محاصرہ ہے، وہاں دستیاب آزادی میں فلسطینی اتنے طاقتور ہوچکے ہیں کہ دنیا کی طاقتور ترین سمجھی جانے والی فوج کی ناک میں دم کیے ہوئے ہیں۔

اس کے مقابل مغربی کنارے کو دیکھیں تو جب سے جنگ شروع ہوئی ہے، اسرائیلی دہشتگردوں نے سینکڑوں فلسطینیوں کو شہید بھی کر دیا ہے اور بڑے پیمانے پر ان کی زمینوں پر بھی قبضہ کر لیا گیا ہے۔ اس کے مقابل میں اہل فلسطین کچھ نہیں کرسکے۔ اگر انہوں نے اہل غزہ کی طرح تیاری کی ہوتی تو اسرائیلی دہشتگردوں کو ایسا کرنے کی جرات نہ ہوتی۔ غزہ کے فلسطینی مزاحمت کاروں نے بڑی حکمت عملی سے اسرائیلی افواج کو غزہ میں داخل ہونے دیا ہے۔ اسرائیل کو بھی معلوم ہے کہ اس کے لیے سب سے مشکل جنگ غزہ کی گلی محلے کی جنگ ہے۔ اس نے اس کے لیے بڑی تیاری کی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی فوج یہ جنگ لڑنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے، بلکہ اس کی اہلیت ہی نہیں رکھتی۔ اس لیے آپ دیکھیں، فضا سے بارود گرا کر ہی ہر چیز کو تباہ کر دیا ہے۔

یہ جنگ اسرائیلی توقعات سے بھی مہنگی ثابت ہوئی ہے، اب ہر گزرتا دن اسرائیلی معیشت پر بھاری پڑ رہا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی دو محاذوں یعنی یوکرین اور فلسطین میں طویل مدت تک نہیں الجھ سکتے۔ اس پر الگ سے تفصیل سے لکھیں گے کہ یہ امریکی خارجہ پالیسی میں چائنہ سپسیفک ٹرن آنے کے بعد مشرق وسطیٰ اب پہلے جیسی ترجیح نہیں رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطین میں طویل مدت جنگ کی صورت میں یورپ کی عوام اسرائیل کے مخالف ہو جائے گی۔ بچوں کا قتل عام اور اجتماعی سزا جیسے جرائم پر امریکی اور مغربی میڈیا پردہ نہیں ڈال سکے گا، کیونکہ اس وقت سوشل میڈیا پر پابندیوں کے باوجود متبادل بیانیہ موجود ہے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ آزادی قربانیوں سے ملتی ہے اور استعمار جتنا طاقتور نظر آرہا ہوتا ہے، اتنا ہوتا نہیں ہے، زمین کے اصل مالکوں کی آزادی نوشتہ دیوار ہوتی ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

 

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بائیڈن کے حماس سے اپنی شکست تسلیم کرنے کے چار اہم نتائج

ایک علاقائی اخبار نے الاقصیٰ طوفان آپریشن کو مختلف جہتوں سے حماس کے خلاف امریکہ …