جمعہ , 23 فروری 2024

اسرائیل کے بعد والا دورانیہ

(تحریر: محمد کاظم انبارلوئی)

1)۔ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے حماس کی پیش کردہ شرائط پر جنگ بندی قبول کئے جانے کا مطلب اس کا تسلیم ہو جانا اور مقبوضہ سرزمین کے اندر اور باہر اسرائیل کے بعد والے دورانئے کا آغاز ہے۔ طوفان الاقصی فوجی آپریشن جیسا محیر العقول معرکہ عرب دنیا اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی تاریخ میں ایک "ڈیٹرنس” آپریشن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس آپریشن کی بنیاد اس وقت پڑی جب حزب اللہ لبنان نے اسرائیل کے خلاف 33 دن جنگ کی۔ اس جنگ میں حزب اللہ لبنان کی عظیم فتح دراصل خطے میں ایک طاقتور فوج کے طور پر اسرائیلی فوج کے کردار کے خاتمے کا اعلان تھا۔

2)۔ فلسطین کی جوان نسل اور غاصب صیہونی رژیم کے ہمسایہ عرب ممالک کی جوان نسل کے ذہن میں ایک اہم اور بنیادی سوال جنم لے چکا تھا۔

وہ سوال یہ تھا کہ کیوں چند بڑے عرب ممالک کی فوجیں 1948ء اور 1967ء میں صیہونی دشمن کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور نہ کر سکیں اور اس کے سامنے ڈھیر ہو گئیں جس کے نتیجے میں اپنی سرزمینوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں؟ اس جوان نسل نے اپنے سوال کا جواب طوفان الاقصی فوجی آپریشن میں پایا۔ اس کا جواب یہ تھا کہ عرب نیشنلزم، بعث پارٹی والی سوشلزم اور اردن طرز کی فرمانروائی اور سلطنت والی منطق کے ذریعے ایسی فوج سے لڑنا ممکن نہیں جس کی فوجی پشت پناہی نیٹو کر رہا ہو جبکہ پوری مغربی دنیا اس کی سیاسی حمایت کرنے میں مصروف ہو۔

3)۔ جس دن دنیا بھر میں اللہ اکبر کے نعروں سے حیرت انگیز کامیابیوں کے ساتھ طوفان الاقصی فوجی آپریشن کے فتح یاب ہونے کی خبریں پھیلیں اور حماس کے رہنماوں نے سجدہ شکر ادا کیا، کئی حقائق سامنے آئے۔

ان میں سے ایک اہم حقیقت یہ تھی کہ اسلام اور قرآن کی منطق سے اور حق و باطل، خیر و شر اور نور و ظلمت کے مفاہیم کے ہمراہ اس میدان میں حاضر ہو کر یقینی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسلام کی منطق جنگ بدر کی منطق ہے۔ اس وقت جب ایک غیر متوازن جنگ میں دشمن کی تعداد تین گنا زیادہ تھی اور اسلامی فوج الہی مدد کے ذریعے فتح سے ہمکنار ہوئی۔

4)۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح شرک کے خلاف واضح دلیل اور توحید اور اسلام کی حقانیت پر واضح برہان تھی۔ تاریخ میں ہے کہ جنگ بدر کے دن پیغمبر اکرم ص نے امام علی علیہ السلام سے فرمایا: "زمین سے مٹھی بھر مٹی اور سنگریزے اٹھاو اور مجھے دو۔ امام علی ع نے ایسا ہی کیا۔ پیغمبر ص نے دعا پڑھ کر اسے دشمن کی جانب پھینکا اور معجزاتی طور پر آندھی آنے لگی جس نے دشمن کو وحشت زدہ کر دیا۔”

پیغمبر اکرم ص نے آسمان کی جانب ہاتھ اٹھا کر دعا کی: اے میرے پروردگار، تو نے ہمیں جس فتح کا وعدہ دیا ہے اسے حقیقت بنا دے۔ خدایا، اگر مسلمانوں کا یہ گروہ قتل کر دیا گیا تو زمین سے تیری عبادت کا خاتمہ ہو جائے گا۔” لہذا خداوند متعال نے مسلمانوں کے چھوٹے سے گروہ کو بڑی تعداد میں کفار اور مشرکین پر غلبہ عطا کر دیا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ طوفان الاقصی فوجی آپریشن کے ماسٹر مائنڈ "محمد ضیف” نے بھی جب زمین، فضا اور سمندر کے ذریعے القسام بٹالینز کے فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کی تھی تو انہیں خداوند متعال سے یہی امید تھی کہ وہ جنگ بدر کی طرح ان کی اور ان کے قلیل ساتھیوں کی مدد فرمائے گا۔

5)۔ خداوند متعال نے بارہا قرآن کریم میں فرمایا ہے: "آپ سمجھتے ہیں کہ دشمن آپس میں متحد ہے لیکن جان لیں کہ ان کے دلوں میں فاصلہ ہے اور وہ انتشار کا شکار ہیں۔” (سورہ حشر، 14)

دنیا کی تاریخ میں ایسا کہیں نہیں ملے گا کہ القسام بٹالینز جتنی قلیل فوج نے ایک ابتدائی حملے میں سر سے پاوں تک ایسی مسلح فوج کا پچاس دن تک مقابلہ کیا ہو جس کی پشت پناہی نیٹو کے اسلحہ ڈپو کر رہے ہوں۔

6)۔ غزہ اور مغربی کنارے میں اس غیر متوازن جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے فلسطینیوں نے بہت بڑی قربانی دی ہے۔ 15 ہزار کے قریب شہید جو اس وقت جنت میں رسول خدا ص اور اولیاء الہی کے ہمراہ فضل پروردگار سے روزی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ دراصل کچھ کھونا نہیں بلکہ کچھ پانا ہے۔ یہ اسلام کی منطق ہے۔ لیکن عرب سربراہان کیلئے یہ منطق قابل قبول نہیں تھی جنہوں نے نیشنلزم، سوشلزم اور سلطنت کی منطق کے ذریعے غاصب صیہونی رژیم سے مقابلہ کرنا چاہا اور اسی وجہ سے انہیں شکست کھانا پڑی۔

7)۔ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور اسرائیل بدستور شمال سے حزب اللہ لبنان اور جنوب سے انصاراللہ یمن اور عراق اور شام میں اسلامی مزاحمتی فورسز کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔

8)۔ صیہونی رژیم کی شکست روز روشن کی طرح واضح ہے۔ صیہونی فوج غزہ میں ایک چپے پر بھی قبضہ نہیں کر پائی اور ذلت آمیز انداز میں ایک اسرائیلی قیدی آزاد کروائے بغیر پسماندگی پر مجبور ہوئی ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ حماس کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے اور جنگ بندی کے وقت حماس کی 85 فیصد فوجی طاقت پہلے کی طرح باقی ہے۔ آج حماس دنیا میں جمہوری ترین حکومت ہے اور غزہ کی عوام اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنے حکمرانوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ آج حماس دنیا کی جائز ترین حکومت ہے کیونکہ گذشتہ پچاس دنوں سے دنیا کے پانچ براعظموں کے لوگ سڑکوں پر نکل کر اس کی حمایت اور حقانیت پر زور دے رہے ہیں۔ خطے اور دنیا میں اسرائیل کے بعد والا دورانیہ دیکھنے کے قابل ہے۔ مغربی ایشیا میں اسلامی مزاحمت کی طاقت اور اقتدار اپنے عروج پر ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

 

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی ظلم کے خلاف بولنا ہے

(تحریر : عمران یعقوب خان) کیوں ظلم پر چُپ کر جاتے ہو اک ظلم تو …