جمعہ , 23 فروری 2024

بائیڈن کے حماس سے اپنی شکست تسلیم کرنے کے چار اہم نتائج

ایک علاقائی اخبار نے الاقصیٰ طوفان آپریشن کو مختلف جہتوں سے حماس کے خلاف امریکہ کی شکست کے طور پر جانچا اور اس شکست کے 4 اہم نتائج کا انکشاف کیا۔ فلسطینی مصنف اور تجزیہ نگار حامد ابوالعز نے روزنامہ رائ الیوم کی ویب سائٹ پر اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک اہم اور تاریخی موقع پر کہا کہ حماس نے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے امریکی منصوبے کو نقصان پہنچایا ہے۔

انھوں نے یہ ریماکس اپنی انتخابی مہم کے لیے ایک فنڈ ریزنگ تقریب میں دیے اور اس بات پر زور دیا کہ حماس کی اسرائیل مخالف کارروائی کے پیچھے ایک اہم ترین عنصر یہ تھا کہ وہ جانتے تھے کہ صیہونی حکام اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے سعودیوں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

ابو العز مزید لکھتے ہیں کہ اگر ہم بائیڈن کے ان بیانات کا تجزیہ پیش کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں یہ کہنا ہوگا کہ بائیڈن کا لہجہ حماس کو دھمکی دینے سے لے کر شکست تسلیم کرنے تک بدل گیا ہے۔

اس جنگ کے دوران اس نے بارہا حماس کو ختم کرنے اور اس کے رہنماؤں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیں اور اس نے فلسطین کے ساحلوں پر امریکی طیارہ بردار جہاز بھیجے اور غزہ جنگ میں صیہونی حکومت کو رسد اور ہتھیار فراہم کرنے کے علاوہ اس جنگ میں امریکی فوجی دستے بھی موجود تھے۔

حماس کے خلاف امریکہ کی شکست تسلیم کرنے کے نتائج

ان تمام اقدامات کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ بائیڈن کا حماس کے خلاف شکست تسلیم کرنے کے درج ذیل نتائج اور اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پہلا: نارملائزیشن منصوبے کی ناکامی کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں امریکی پالیسیوں کا مقصد صرف اسرائیل کے مفادات کو پورا کرنا ہے اور خطے میں کسی بھی امریکی سرگرمی کا اسی نقطہ نظر سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ امریکہ نے کئی بار ثابت کیا ہے کہ اسے اسرائیل کی سلامتی کے علاوہ خطے میں کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے اور اس نے اپنی تمام تر فوجی، سفارتی، سیاسی اور اقتصادی صلاحیت اسرائیل کی خدمت میں لگا دی ہے۔ اگرچہ حماس کا الاقصیٰ طوفان آپریشن کا بنیادی مقصد غزہ کی پٹی، بیت المقدس اور مغربی کنارے پر تجاوزات کو روکنا تھا لیکن وہ عرب اسرائیل تعلقات معمول پر آنے کے عمل کو روکنے میں بھی کامیاب رہا۔

دوسرا: یہ اعتراف الاقصیٰ طوفان آپریشن سے اسرائیل کی ناکامیوں کے دائرے کو بڑھا سکتا ہے۔ اگرچہ عرب اور اسلامی ممالک میں بعض سرگوشیوں نے اس آپریشن کے حوالے سے مزاحمتی گروپوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن بائیڈن کے بیانات نے ظاہر کیا کہ اس آپریشن کا نقصان صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کہلانے والا امریکہ بھی القسام فورسز کے ہتھیاروں کے سامنے شکست کھا چکا ہے۔

تیسرا: حماس نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتخابی مہم کو سخت نقصان پہنچایا۔ یہ ایک عام مسئلہ ہے کہ امریکی صدارتی امیدوار اپنی مہم کی بنیاد اسرائیل کی مکمل حمایت پر رکھتے ہیں اور اسرائیل کو زیادہ خدمات فراہم کرنے میں عام طور پر ری پبلکن اور ڈیموکریٹک امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔
اس طرح سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے ذریعے اسرائیل کو بے مثال خدمات فراہم کرنے کی بائیڈن کی کوششوں کی ناکامی کا مطلب آئندہ انتخابات میں ان کی ممکنہ شکست ہے۔

چوتھا: الاقصیٰ طوفانی آپریشن کے ذریعے حماس نے ثابت کیا کہ امریکا اسرائیل کی حمایت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا، لہٰذا مذکورہ آپریشن نہ صرف امریکا کی فوجی شکست ہے بلکہ یہ امریکا کے سفارتی، سیاسی اور ذرائع ابلاغ کے میدان میں بھی شکست کا سبب بنی ہے۔ جس سے عربی اور مسلم ممالک کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔

مثال کے طور پر امریکہ نے عراق پر شدید اقتصادی دباؤ ڈالا کہ وہ فلسطین اور اس کے عوام کی حمایت بند کردے۔ لہٰذا ہم سب کو حماس کی کوششوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے ان عالمی بلیک میلروں کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرنا چاہیے۔جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ فلسطین کاز کی حمایت میں عراقی وزیر اعظم اور حکام کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔بشکریہ مہر نیوز

 

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

حماس کے خلاف جنگ میں شرکت کا امریکی اعتراف

واشنگٹن:امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے ساتھ امریکہ …