جمعرات , 21 اکتوبر 2021

تجزیات

حامد کرزئی نے دہائیوں تک طالبان، امریکہ اور مجاہدین کے درمیان توازن کیسے رکھا

تحریر: گریگر ایٹناسیان طالبان کے کابل میں داخل ہونے سے پہلے صدر اشرف غنی ملک سے جا چکے تھے لیکن افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی، جو گذشتہ دو دہائیوں سے افغانستان کے مقبول رہنماؤں میں سے ایک ہیں، آج بھی وہیں موجود ہیں۔ یہ بات اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ طالبان نے انھیں کئی بار قتل کرنے …

مزید پڑھیں »

نائن الیون، 20 سال بعد!

تحریر: رمیش کمار آج سے بیس سال قبل نائن الیون کے سانحے نے دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی تھی، طاقت کے نشے میں چُور امریکہ عالمی طاقتوں کو ساتھ لے کر ایک کمزور ملک افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا اور طالبان حکومت کو بزورِ طاقت ختم کردیاتھا ۔تاہم رواں برس جب امریکہ میں نائن الیون کی بیس سالہ …

مزید پڑھیں »

افغانستان میں ترکی اور قطر کا اثر: وہ ممالک جو طالبان کے لیے ’لائف لائن‘ بن کر سامنے آئے

تجزیہ نگار: ٹام بیٹ مین گذشتہ ہفتے جب مغربی ممالک کا افغانستان سے انحلا مکمل ہو رہا تھا تو طالبان جشن منانے کے لیے کابل میں ہوائی فائرنگ کرنے لگے۔ عسکریت پسندی کی تاریخ وہ وجہ ہے جس کی بنا پر طالبان کے عالمی سطح پر تنہا رہ جانے کا امکان ہے اور لاکھوں افغان شہریوں کا مستقبل غیر یقینی …

مزید پڑھیں »

افغانستان میں طالبان: دوسری عالمی جنگ کے بعد سے امریکہ اکثر جنگیں کیوں ہار جاتا ہے؟

زبیر احمد افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے بعد اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دنیا کا سب سے طاقتور ملک جس کے پاس جدید ترین فوج، جدید ترین ٹیکنالوجی اور جدید ترین فضائیہ ہے وہ طالبان کو شکست کیوں نہیں دے سکا؟ امریکی دانشور اس بات پر حیران ہیں کہ امریکہ دورِ …

مزید پڑھیں »

افغانستان اور کشمیر

تحریر: عثمان دموہی اب یہ بات پوری عالمی برادری سمجھ چکی ہے کہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے کا بدلہ پاکستان سے افغان سرزمین کو استعمال کرکے لے رہا تھا۔ مسلسل بیس سال تک وہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرتا رہا مگر اب طالبان کی حکومت کے وہاں برسر اقتدار آنے کے بعد اسے اس …

مزید پڑھیں »

افغانستان کے حالات کا سبق، پاکستان کے لئے

تحریر: سلیم صافی جب حامد کرزئی افغانستان کے صدر تھے تو اس وقت ان کے بارے میں پاکستان اور افغانستان کے اندر بھی یہ پروپیگنڈا کیا جارہا تھا کہ جیسے ہی وہ صدارت سے فارغ ہوں گے تو امریکہ یا ہندوستان چلے جائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ صدارت سے فراغت کے بعد بھی وہ نہ صرف افغانستان میں …

مزید پڑھیں »

خدا کی قسم ہم طالبان کے ساتھ ہیں

تحریر: وسعت اللہ خان ہم تب بھی خوش تھے جب امریکہ کو ویتنامیوں سے چھتر پڑے۔ ہم تب بھی ناچے جب ایران سے امریکہ کا بستر گول ہوا اور ہم آج بھی بہت خوش ہیں جب افغانستان سے امریکی بدن پر تیل مل کے فرار ہوئے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جب ارطغرل کہیں دور دراز ایشیاِ کوچک میں اپنے ہی …

مزید پڑھیں »

طالبان کا نیا افغانستان اور شہید سلیمانی کی دور اندیشی

تحریر: توقیر کھرل طالبان کے افغانستان پر قبضہ سے قبل ایران میں افغان حکومت اور طالبان مذاکرات کی میز پر نظر آئے۔ قبضہ کے بعد محرم الحرام میں مجالس عزاء میں طالبان رہنماوں کی شرکت اور کابل میں شیعہ علمائے کرام کی نشستوں کے بعد یہ سوال زبان زد عام ہے کہ ایران اور طالبان کے مابین تعلقات کس نوعیت …

مزید پڑھیں »

زوالِ سوویت یونین

تحریر: ماہر علی فروری 1989ء میں جب سرخ فوج براستہ دوستی پل افغانستان چھوڑ کر ازبکستان روانہ ہو رہی تھی تب اس کو اتنی ہزیمت نہیں اٹھانی پڑی تھی جتنی رواں برس امریکیوں کو اپنے انخلا کے موقعے پر اٹھانی پڑ رہی ہے۔ اس وقت دوستی پل عبور کرنے والے آخری شخص قابض افواج کے کمانڈر Boris Gromov تھے۔ ابھی …

مزید پڑھیں »

یحیی السنوار، غاصب صیہونی رژیم کی آنکھ میں چبھتا ہوا کانٹا

تحریر: عبدالباری عطوان (چیف ایڈیٹر رای الیوم) لیکوڈ پارٹی سے وابستہ غاصب صیہونی رژیم کے رکن پارلیمنٹ (کینسٹ) ڈیوڈ بیٹن نے حال ہی میں کہا ہے کہ ہمیں ہر قیمت پر غزہ میں حماس کے سربراہ یحیی السنوار کو قتل کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا: "یحیی السنوار نے اسرائیلیوں کو تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے۔۔۔۔ہمیں اسے قتل کرنا …

مزید پڑھیں »